Ladda ner PDF
Tillbaka till listan med berättelser

ناروے آنا

Skriven av Aamiina

Illustrerad av Julie Cornelia van Walsum

Översatt av Yasir Tayyab

Uppläst av Mobeen Malik

Språk urdu

Nivå Nivå 5

Läs hela berättelsen

Reading speed

Automatisk avspälning


میں اور میرے دو بھائی دسمبر 2016 میں ناروے آئے۔ ہم نے گرمیوں کے کپڑے پہنے ہوئے تھے کیونکہ ہمیں لگتا تھا کہ ناروے میں اتنی ہی گرمی ہوگی جتنی صومالیہ میں تھی۔ تاہم، جب ہم ایئرپورٹ پر پہنچے تو برف باری ہو رہی تھی۔ ہمیں سردی لگ رہی تھی اور موسم بہت ٹھنڈا تھا۔ اگرچہ ہم چند سوٹ کیس لے کر آئے تھے لیکن ان میں صرف گرمیوں کے کپڑے تھے۔


اگرچہ بہت سردی تھی لیکن جب ہم ناروے آئے تو میں بہت خوش تھی۔ میں آخر کار اپنی ماں سے دوبارہ مل سکوں گی، جنہیں میں نے چھ سال سے نہیں دیکھا تھا۔ میری ماں اور ان کی دو سہیلیاں ہم سے ملیں۔ انہیں دیکھ کر ہم خوشی سے رو پڑے۔ ہم اس چھوٹے سے شہر میں چلے گئے جہاں ماں رہتی تھیں۔


ماں کے شہر میں میرا پہلا دن بہت اجنبی گزرا۔ سردی اور برف باری تھی اور دیکھنے کے لیے زیادہ چیزیں نہیں تھیں۔ گلیاں بالکل خالی تھیں۔ جن چند لوگوں سے میں ملی تھی وہ بہت سرد مزاج تھے اور دوستانہ نہیں تھے۔ صومالیہ میں ہر جگہ لوگ ہوتے تھے، اس لیے یہاں سب کچھ اجنبی محسوس ہوا۔ میری ماں اور ان کی سہیلیوں نے ہمیں کچھ تحائف دیے، اور پھر وہ ہمیں سردیوں کے کپڑے خریدنے کے لیے اپنے ساتھ لے گئیں۔


کرسمس کی تعطیلات کے بعد، میں نے بالغان کے تعلیمی مرکز میں ناروے کے ایک کورس میں شمولیت اختیار کی۔ ایک روایتی اسکول میں تعلیم شروع کرنے سے پہلے میں نے وہاں دو سال تک تعلیم حاصل کی۔ اب میں اپنے آخری سال میں ہوں اور میں نے بہت سے نئے دوست بنائے ہیں۔ میں بہت دوستانہ ہوں اور دوسرے لوگوں سے مل کر لطف اندوز ہوتی ہوں۔


اسکول کے بعد میں رضاکاروں کے ذریعے چلائے جانے والے سینٹر میں جاتی ہوں جہاں مجھے اپنا ہوم ورک کرنے میں مدد ملتی ہے۔ میں نے سینٹر میں ایک سلائی کورس میں بھی شمولیت اختیار کی ہے۔


صومالیہ میں، میں کبھی سکول نہیں گئی اور نہ ہی قرآن سکول کے علاوہ کوئی کورس کیا۔ مجھے پڑھنا لکھنا نہیں آتا تھا۔ اب میں نے صومالی اور نارویجن دونوں زبانوں میں لکھنا سیکھ لیا ہے اور بہت سے دوسرے مضامین بھی۔ میں نے محسوس کیا کہ تعلیم کے بغیر میں کچھ بھی نہیں ہوں۔ اب میں باخبر اور خوشی محسوس کرتی ہوں۔


اگلے سال میں صحت اور نوجوانوں کی ترقی کے شعبہ میں سیکنڈری اسکول میں داخلہ لوں گی۔ مستقبل میں، میں نوجوان کارکن بننا چاہتی ہوں۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد، میرا خواب مستقل ملازمت حاصل کرنا ہے۔ میں گاڑی چلانا بھی سیکھنا چاہتی ہوں اور اپنا گاڑی چلانے کا لائسنس بھی حاصل کرنا چاہتی ہوں۔


اگر میں صومالیہ میں رہتی تو مجھے لگتا ہے کہ میں اب تک ماں بن چکی ہوتی۔ شاید میرے اب تک بہت سے بچے ہوچکے ہوتے۔ اگر میں صومالیہ میں ہوتی تو مجھے وہ مواقع نہ ملتے جو مجھے اب ملے ہیں۔ میں ناروے میں رہنا اپنی خوش قسمتی سمجھتی ہوں۔


Skriven av: Aamiina
Illustrerad av: Julie Cornelia van Walsum
Översatt av: Yasir Tayyab
Uppläst av: Mobeen Malik
Språk: urdu
Nivå: Nivå 5
Creative Commons Licens
Detta verk är licensierat under en Creative Commons Erkännande 4.0 Internationell Licens.
Valmöjligheter
Tillbaka till listan med berättelser Ladda ner PDF