یولیا، اس کا شوہر اور ان کی چھوٹی بیٹی یوکرین کے ایک چھوٹے سے پرسکون گاؤں میں رہتے تھے۔ یولیا کو ہر صبح پرندوں کی آواز سے بیدار ہونا پسند تھا۔ اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اسے گھر سے بہت دور رہنا پڑے گا، یا صبح پرندوں کی آواز سے بیدار ہونا پڑے گا۔
اس کے شوہر کو ہمیشہ یہ شکایت رہتی تھی کہ اس کے پاس زیادہ پیسے نہیں ہیں اور وہ بہت زیادہ شراب پینے لگا۔ انہوں نے پرتگال میں اپنی قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا۔ ہو سکتا ہے وہاں وہ گھر بنانے اور اپنے خاندان کا بہتر مستقبل بنانے کے لیے زیادہ پیسے کما سکیں۔
یولیا نے اپنے نئے گھر کو اچھی طرح قبول کر لیا اور اس نے کلینر کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا۔ اس کے گاہکوں نے اس کی محنت اور اس کے شائستہ رویے کی بہت تعریف کی۔ دوسری طرف، اس کے شوہر نے بہت زیادہ ناکامی محسوس کی۔ اس کے شراب پینے کے مسئلے کی وجہ سے، مالکان نے اس پر بھروسہ نہیں کیا اور اسے کام نہیں دیا۔
ایک دن اس نے یولیا پر چیخنا شروع کر دیا۔ پھر اس نے اسے دھکے دینا شروع کر دیا۔ چیخ و پکار اور مار پیٹ اور زیادہ بڑھ گئی، خاص طور پر جب وہ نشے میں ہوتا تھا۔ یولیا اپنے اور اپنی بیٹی کے لیے خوفزدہ تھی، لیکن وہ بے بس تھی۔
آخر کار، جب یولیا کو ٹوٹے ہوئے بازو کے ساتھ ہسپتال کے ایمرجنسی روم میں جانا پڑا، تو ہسپتال والوں نے اسے بتایا کہ پرتگال میں گھریلو تشدد ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ جرم ہے اور اسے پولیس کو اطلاع کرنی چاہیے۔
یولیا بہت تھک چکی تھی اور وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کی چھوٹی سی بیٹی ایسے گھر میں پلے بڑھے جہاں وہ ہر روز تشدد کا مشاہدہ کرتی ہو۔ یولیا کو اندازہ ہوا کہ اس پہ بد سلوکی کہ اثار ہر وقت موجود تھے، چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہو۔
یولیا خواتین کی پناہ گاہ میں گئی، جہاں وہ اپنے آپ کو ایک لمبے عرصے کے بعد محفوظ محسوس کر رہی تھی۔ اس نے تب سے ایسا سکون محسوس نہیں کیا تھا جب سے وہ آخری بار صبح پرندوں کی آواز سے بیدار ہوئی۔