ملک کے آزاد ہونے کے فوراً بعد، ایڈسن انگولا میں پیدا ہوا۔ وہ بہت لمبا لڑکا تھا۔ اپنے قد کی وجہ سے وہ نمایاں ہوتا تھا۔ جو لوگ خانہ جنگی میں فوجی بن کر لڑنے کے لیے بچوں کو ہتھیار دے رہے تھے، وہ اس جیسے لڑکے تلاش کر رہے تھے۔
اس کی ماں کو ڈر تھا کہ وہ اسے لے جائیں گے، اس لیے، اس نے اسے ایک خالہ کے ساتھ پرتگال میں رہنے کے لیے بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے سوچا کہ وہ وہاں محفوظ رہے گا۔
وہاں نئی زندگی شروع کرنا بہت مشکل تھا، کیونکہ ایڈسن کو گرم موسم، روایتی کھانے اور سب سے زیادہ، اپنی ماں کے گلے ملنا اور بوسہ لینا یاد آتا تھا۔
وہ پرتگالی زبان اچھی طرح نہیں بولتا تھا اور اسے اپنی کلاسوں اور اپنے ہم جماعتوں کی بات چیت کو سمجھنا بہت مشکل لگتا تھا۔ وہ اس سوچ میں پڑ گیا کہ کیا اس کا پرتگال آنا اچھا فیصلہ تھا۔
ایک دن ایک استاد نے دیکھا کہ وہ باسکٹ بال میں بہت اچھا ہے۔ وہ ایک باسکٹ بال ٹیم میں شامل ہوگیا اور بہت کامیاب رہا۔ وہ اسکول میں مشہور ہوگیا اور اس کے بہت سے دوست بن گئے۔ اس کے اعتماد میں مزید اضافہ ہوگیا۔
اب جب کہ وہ بالغ ہو چکا ہے، ایڈسن پناہ گزین بچوں اور ایسے افراد کو تربیت دیتا ہے جنہیں معاشرے سے باہر نکالے جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ ایک بار، اس کے لمبے قد نے اسے فوجی بچہ بننے کے خطرے میں ڈال دیا۔ اب، اس کا قد اسے دوسروں کو محفوظ محسوس کرانے کی طاقت دیتا ہے۔