میرا نام اگوسٹینو ہے اور میری عمر اکاون سال ہے۔ میرا کام سائیکل کے ذریعے کھانا پہنچانا ہے۔ میری دو بیٹیاں ہیں، لیکن ہم بہت کم بات کرتے ہیں۔ ان کی ماں اور میں اب ساتھ نہیں رہتے کیونکہ ہم طلاق یافتہ ہیں۔
My name is Agostino and I am 51 years old. My job is delivering food by bicycle. I have two daughters, but we hardly ever speak. Their mother and I no longer live together because we are divorced.
میں اپنی ماں کے ساتھ رہتا ہوں، کیونکہ میں طلاق کے بعد کرایہ ادا کرنے کی گنجائش نہیں رکھتا۔ اس شہر میں کرایہ بہت زیادہ ہے۔
I live with my mother, as I cannot afford to pay rent after the divorce. Rent is very expensive in this city.
میں چند ماہ پہلے ایک کمپنی میں صفائی والے کے طور پر کام کر رہا تھا۔ میں ٹوٹی ہوئی چیزوں کی مرمت کرتا، سامان اٹھاتا، اور جب کسی کو ضرورت پڑتی تو میں اس کی مدد کرتا۔ ایک دن کمپنی نے مجھے نوکری سے نکال دیا۔ مجھے سمجھ نہیں آیا کہ مجھے کیوں نکالا گیا۔
A few months ago I was working as a janitor for a company. I repaired things that were broken, carried boxes, and helped when anyone needed it. One day the company fired me. I did not understand why.
میں نے بہت سے لوگوں کو سائیکل پر کھانا پہنچاتے دیکھا۔ میں سائیکل چلانا جانتا ہوں، اس لیے میں نے ایک بڑی ڈیلیوری کمپنی کے دروازے پر دستک دی۔ انہوں نے مجھے ہر ڈیلیوری کے لیے تین یورو دینے کی پیشکش کی۔ میں روزانہ چالیس یورو کماتا ہوں اور اگر میری بہت خوش نصیبی ہو اور گاہک مجھے ٹپ دے دیں تو ساٹھ یورو کما لیتا ہوں۔
I saw many people delivering food by bicycle. I can ride a bicycle, so I knocked on the door of a big delivery company. They offered me three euros for each delivery. I make 40€ per day, 60€ if I am very lucky and the customers tip me.
مجھے کسی بھی چھٹی والے دن تنخواہ نہیں ملتی، بیمار ہونے پر کوئی رقم نہیں ملتی اور مجھے شاید ہی کوئی حقوق حاصل ہوں۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ ٹھیک ہے، لیکن مجھے نوکری کی ضرورت ہے۔ دیگر ملازمین میں سے زیادہ تر دنیا بھر سے آئے ہوئے مہاجرین ہیں۔
I get no paid holiday, no sick pay, hardly any rights at all. I do not think that is right, but I need the job. Most of the other employees are immigrants from all over the world.
سامان پہنچانے والے کئی لوگ روزانہ حادثات میں زخمی ہو جاتے ہیں۔ پھر، جب ایک پچیس سالہ سامان پہنچانے والا آدمی کار کے ٹکرانے سے مر گیا، تو حکام نے ہمیں اہم سمجھنا شروع کردیا۔ یہ افسوس کی بات ہے کہ اس کی موت کے بعد یہ اقدام ہوا۔
Many delivery people are injured in accidents every day. Then, when a 25-year-old deliveryman was hit by a car and died, the authorities started noticing us. It is a shame he had to die before that happened.
دوسری کمپنیوں کے سامان پہنچانے والے لوگوں کے ساتھ مل کے میں نے مقامی یونین کے ساتھ ملازمین کے حقوق پر کورس کیا۔ انہوں نے ہمیں مفت قانونی مشورہ فراہم کیا۔ ہم نے مزید اہمیت اور حقوق حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کی۔
Together with delivery people from other companies, I took a course on workers’ rights with a local union. They offered us legal advice free of charge. We struggled to get more recognition and rights.
ایک لمبے عرصے کے بعد ہماری ساری محنت رنگ لائی۔ ایک بڑی ڈیلیوری کمپنی کو بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑا اور ملازمین کو مستقل ملازمتیں دینا پڑیں۔ پوری دنیا میں کہیں پر بھی ایسا واقعہ پہلی بار ہوا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ چیزیں بہتر ہونا شروع ہو رہی ہیں۔
After a long time all our hard work paid off. One big delivery company had to pay a huge fine and to give workers permanent jobs. It was the first time that had happened anywhere in the whole world. It looks like things are starting to improve.